کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں

قیصر شمیم

کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں

قیصر شمیم

MORE BYقیصر شمیم

    کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میں

    گھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میں

    نہ کوئی سمت مقرر نہ کوئی جائے قرار

    ہے انتشار کا عالم ہوا کے بندوں میں

    وہ کون ہے جو نہیں اپنی مصلحت کا غلام

    کہاں ہے بوئے وفا اب وفا کے بندوں میں

    خدا کرے کہ سماعت سے میں رہوں محروم

    کبھی جو ذکر ہو میرا ریا کے بندوں میں

    سزائیں میری طرح ہنس کے جھیلنے والا

    نہیں ہے کوئی بھی عہد سزا کے بندوں میں

    نا عافیت کی سحر ہے نہ انبساط کی شام

    ہوں ایک عمر سے صحرا بلا کے بندوں میں

    سخن شناس ہے کتنا یہ پوچھ لوں قیصرؔ

    نظر وہ آئے جو حرف و نوا کے بندوں میں

    مأخذ :
    • کتاب : Tridhara (Pg. 32)
    • Author : Dr. Hari Kunwar Rai 'Kunwar'
    • مطبع : Dishantar Parkashan (1996)
    • اشاعت : 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY