کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں

سراجؔ عالم زخمی

کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں

سراجؔ عالم زخمی

MORE BYسراجؔ عالم زخمی

    کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں

    ہم اپنے آپ کو بھولے ہیں اور کیا کر لیں

    نہ اشک آنکھ میں آئے نہ آنکھ بہہ نکلے

    تو کیوں نہ جانب پہلو ہی آج وا کر لیں

    ہزار رنگ قباؤں پہ ڈال رکھے ہیں

    عجیب خبط ہے دامن کو پارسا کر لیں

    بڑے غرور سے کی ہے ضمیر نے توبہ

    جو تو ملے کبھی تنہا تو پھر خطا کر لیں

    مرے لیے تو یہ دنیا سراب جیسی ہے

    اب اس پہ خاک نہ ڈالیں تو اور کیا کر لیں

    نہ دل رہے نہ محبت رہے نہ درد رہے

    چلو اکیلے میں مل کر یہ فیصلہ کر لیں

    انہیں کا نام ہے دل کی ہر ایک دھڑکن پر

    وہ چاہتے ہیں کہ سانسیں بھی اب بتا کر لیں

    مأخذ :
    • کتاب : Lahja bolta hai (Pg. 151)
    • Author : Siraj Alam Zakhmi
    • مطبع : Gulistan-e-adab (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے