کہیں گے کس سے ہیں خود اپنی تیغ کے گھائل

خالد حسن قادری

کہیں گے کس سے ہیں خود اپنی تیغ کے گھائل

خالد حسن قادری

MORE BY خالد حسن قادری

    کہیں گے کس سے ہیں خود اپنی تیغ کے گھائل

    نہ اختیار پہ قابو نہ جبر کے قائل

    میں خود ہوں اپنی تمنا فریبیوں کا شکار

    جو دل پہ گزرے گزر جائے پر نہ تو ہو خجل

    حیات وقفۂ راحت ہے راہ رو کے لیے

    عدم سے تا بہ عدم ہے سفر کی اک منزل

    نوید عالم نو دے رہا ہے سیل ارم

    چھپے ہوئے ہیں سمندر کی تہہ میں بھی ساحل

    نہ بڑھ سکا حد ادراک سے شعور طلب

    گناہ گار ہوں میں اپنے حوصلوں سے خجل

    ہے بار دوش ہمارے لیے بھی سر اپنا

    تمہارے شہر میں پھرتے ہیں اب کھلے قاتل

    مجھے تو صدمۂ فرقت سے اتنا ہوش نہ تھا

    تمہیں خبر ہے یہ کس کا دھڑک رہا تھا دل

    ابھی سے گرمئی آغوش موج بحر کہاں

    بہت ہے دور ابھی تو مراد کا ساحل

    وہ چاٹ لیتے ہیں کلیوں سے قطرۂ شبنم

    جنہیں سمجھتے ہیں دنیا میں لوگ دریا دل

    ہمیں نے درد کو سارے جہاں کے اپنایا

    ہمیں کو لوگ سمجھتے ہیں مجرم و قاتل

    معاہدہ بھلا صیاد و صید میں کیسا

    یہ اتفاق ہے وہ بھی ہیں آج پا در گل

    قلندران تہی دست کچھ نہیں رکھتے

    زہ نصیب اگر ہو قبول ہدیۂ دل

    وہ قادریؔ کو سمجھتے ہیں جاں نثاروں میں

    کرم ہے ان کا فقط ہم نہیں کسی قابل

    مآخذ:

    • کتاب : Sada-e-sher-e-fusu.n (Pg. 17)
    • Author : Khalid Hassan Qadrii
    • مطبع : Asif Javed (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY