کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے

جعفر شیرازی

کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے

    کہاں ہوائیں کھو گئی ہیں سوچنا تو چاہئے

    یہ اور بات باغ باغ کر گئیں طبیعتیں

    ذرا قریب سے ہنسی کو دیکھنا تو چاہئے

    یہ مصلحت بھی کیا کہ دل کی وسعتیں ہوں منجمد

    رگوں میں زندگی کا خون دوڑنا تو چاہئے

    میں ان اداسیوں کو ان رفاقتوں کو کیا کروں

    کرن کو جاگنا ہوا کو بولنا تو چاہئے

    انہیں بھی نوک سنگ سے ذرا ہلا کے دیکھ لوں

    کہ پانیوں کا یہ سکوت توڑنا تو چاہئے

    یہ کیا ہوا بڑھا کے سلسلے مجھے بھلا دیا

    کہیں ملے تو جعفرؔ اس سے پوچھنا تو چاہئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY