کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا

سحر انصاری

کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا

    گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

    کہوں تو کس سے کہوں آ کے اب سر منزل

    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    میں وہ مسافر دشت غم محبت ہوں

    جو گھر پہنچ کے بھی سوچے کہ گھر نہیں آیا

    صبا نے فاش کیا راز بوئے گیسوئے یار

    یہ جرم اہل تمنا کے سر نہیں آیا

    کبھی کوئی ترے وعدوں کا تذکرہ چھیڑے

    تو کیا کہوں کہ کوئی نامہ بر نہیں آیا

    پھر ایک خواب وفا بھر رہا ہے آنکھوں میں

    یہ رنگ ہجر کی شب جاگ کر نہیں آیا

    مرے لہو کو مری خاک ناگزیر کو دیکھ

    یونہی سلیقۂ عرض ہنر نہیں آیا

    نہ جانے ضبط کے ہاتھوں سحرؔ پہ کیا گزری

    بہت دنوں سے وہ آشفتہ سر نہیں آیا

    مآخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 233)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY