کہیے کیا اور فیصلے کی بات

غلام مولیٰ قلق

کہیے کیا اور فیصلے کی بات

غلام مولیٰ قلق

MORE BY غلام مولیٰ قلق

    کہیے کیا اور فیصلے کی بات

    وصل ہے اک معاملے کی بات

    اس کے کوچے میں لاکھ سر گرداں

    ایک یوسف کے قافلے کی بات

    گیسوئے حور اور زاہد بس

    ذکر کاکل ہے سلسلے کی بات

    غیر سے ہم کو رشک صل علیٰ

    کہیے کچھ اپنے حوصلے کی بات

    ایک عالم کو کر دیا پامال

    یہ بھی ہے کوئی مشغلے کی بات

    کیا بگڑنا انہیں نہیں آتا

    صلح بھی ہے مجادلے کی بات

    دیکھ کیا کہتے ہیں خدا سے ہم

    اک ذرا ہے مقابلے کی بات

    اس قدر اور قریب خاطر تو

    عقل سے ہے یہ فاصلے کی بات

    داور حشر سے بھی حال کہا

    نہیں رکتی کہیں گلے کی بات

    نہ چلے پاؤں اور نہ سر ہی چلے

    بے سر و پا ہے آبلے کی بات

    کوئی مضموں کبھی نہ پیش آیا

    شعر میں کی ہے پھر صلے کی بات

    ہم نشیں عرش ہل گیا شب ہجر

    پوچھ مت جی کے زلزلے کی بات

    اے قلق دل کو سوچ کر دینا

    کچھ نہیں ٹھیک ولولے کی بات

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites