Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے

فیض تبسم تونسوی

کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے

فیض تبسم تونسوی

MORE BYفیض تبسم تونسوی

    کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے

    دل کیا گیا حیات کے سامان ہی گئے

    وہ واردات قلب کے لمحے فنا ہوئے

    وہ جن پہ ناز تھا مجھے ارمان ہی گئے

    پہلے تو حوصلہ نہ ہوا ان سے ربط کا

    آخر ہم اپنے دل کا کہا مان ہی گئے

    ہم نے تو درد دل کو ہی درماں بنا لیا

    اپنے کئے پہ آپ پشیمان ہی گئے

    دیکھا ہے ہم نے موت کو اتنا قریب سے

    اس لومڑی کی چال کو پہچان ہی گئے

    الٹاؤ جام بزم طرب ملتوی کرو

    جو جان مے کدہ تھے وہ مہمان ہی گئے

    پھر لے چلا ہے جانب مقتل تو چل چلیں

    اے قلب‌ زار تیرا کہا مان ہی گئے

    وہ اور ہوں گے جن کو نوازا جہان نے

    دنیا سے فیضؔ بے سر و سامان ہی گئے

    مأخذ:

    لوح ایام (Pg. 68)

    • مصنف: فیض تبسم تونسوی
      • ناشر: فیض اکیڈمی، کراچی
      • سن اشاعت: 1998

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے