کئی دلوں میں پڑی اس سے شور و شر کی طرح

زاہد فارانی

کئی دلوں میں پڑی اس سے شور و شر کی طرح

زاہد فارانی

MORE BYزاہد فارانی

    کئی دلوں میں پڑی اس سے شور و شر کی طرح

    ترا خیال ہے اڑتی ہوئی خبر کی طرح

    نہیں ہے تاب نظر کم عیار آنکھوں میں

    چمک رہا ہے وہ چہرہ دکان‌ زر کی طرح

    ہٹے گی گرد مہ و سال کس کے ہاتھوں سے

    زمانہ بند پڑا ہے قدیم در کی طرح

    خیال غیر نکلتا نہیں مرے دل سے

    کسی کے گھر میں یہ بیٹھا ہے اپنے گھر کی طرح

    ٹھٹھک گیا میں اسے اپنے سامنے پا کر

    مجھے لگا وہ گزرگاہ پر خطر کی طرح

    سکوں کے ساتھ تھکن بھی ہے اس کی یادوں میں

    گزشتہ عمر ہے بھولے ہوئے سفر کی طرح

    پس ادائے نظر چھپ گئی ہے تاریکی

    وہ بے نقاب ہوا اولیں سحر کی طرح

    جو میرے سامنے مدت کے بعد آیا تھا

    گزر گیا ہے اچٹتی ہوئی نظر کی طرح

    ڈھلے ہیں ان میں مری زندگی کے شام و سحر

    ہیں میرے شعر حکایات مختصر کی طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY