کلیوں میں تازگی ہے نہ خوشبو گلاب میں

سوہن راہی

کلیوں میں تازگی ہے نہ خوشبو گلاب میں

سوہن راہی

MORE BYسوہن راہی

    کلیوں میں تازگی ہے نہ خوشبو گلاب میں

    پہلی سی روشنی کہاں جام شراب میں

    پوچھو نہ مجھ سے عشق و محبت کے سلسلے

    لذت سی مل رہی ہے مجھے ہر عذاب میں

    یہ راز جانتی نہ تھی تاروں کی روشنی

    کتنا حسین چاند چھپا تھا نقاب میں

    دو کانپتے لرزتے لبوں کی نوازشیں

    لہرا کے ڈھل گئیں مرے جام شراب میں

    ہم ہیں گناہ گار مگر اس قدر نہیں

    جتنے گناہ آئے ہیں اپنے حساب میں

    لکھی گئی جو میرے ہی خوابوں کے خون سے

    راہی مرا ہی نام نہیں اس کتاب میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY