کنار آب ترے پیرہن بدلنے کا

سالم سلیم

کنار آب ترے پیرہن بدلنے کا

سالم سلیم

MORE BYسالم سلیم

    کنار آب ترے پیرہن بدلنے کا

    مری نگاہ میں منظر ہے شام ڈھلنے کا

    یہ کیسی آگ ہے مجھ میں کہ ایک مدت سے

    تماشہ دیکھ رہا ہوں میں اپنے جلنے کا

    سنا ہے گھر پہ مرا منتظر نہیں کوئی

    سو اب کے بار میں ہرگز نہیں سنبھلنے کا

    خود اپنی ذات پہ مرکوز ہو گیا ہوں میں

    کہ حوصلہ ہی نہیں تیرے ساتھ چلنے کا

    اب آ گئے ہو تو پھر عمر بھر یہیں ٹھہرو

    بدن سے کوئی بھی رستہ نہیں نکلنے کا

    سلیمؔ شمع وجود آ گئی ہے بجھنے پر

    بس انتظار کرو موم کے پگھلنے کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY