کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا

افضل منہاس

کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا

افضل منہاس

MORE BYافضل منہاس

    کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا

    ہم کو لوگوں نے بلایا ہمیں چھو کر دیکھا

    وہ جو برسات میں بھیگا تو نگاہیں اٹھیں

    یوں لگا ہے کوئی ترشا ہوا پتھر دیکھا

    کوئی سایہ بھی نہ سہمے ہوئے گھر سے نکلا

    ہم نے ٹوٹی ہوئی دہلیز کو اکثر دیکھا

    سوچ کا پیڑ جواں ہو کے بنا ایسا رفیق

    ذہن کے قد نے اسے اپنے برابر دیکھا

    جب بھی چاہا ہے کہ ملبوس وفا کو چھو لیں

    مثل خوشبو کوئی اڑتا ہوا پیکر دیکھا

    رقص کرتے ہوئے لمحوں کی زباں گنگ ہوئی

    اپنے سینے میں جو اترا ہوا خنجر دیکھا

    زندگی اتنی پریشاں ہے یہ سوچا بھی نہ تھا

    اس کے اطراف میں شعلوں کا سمندر دیکھا

    رات بھر خوف سے چٹخے تھے سحر کی خاطر

    صبحدم خود کو بکھرتے ہوئے در پر دیکھا

    وہ جو اڑتی ہے سدا دست وفا میں افضلؔ

    اسی مٹی میں نہاں درد کا گوہر دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY