کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب

باصر سلطان کاظمی

کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب

باصر سلطان کاظمی

MORE BYباصر سلطان کاظمی

    کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب

    ہوتے نہ یوں ہمارے جواں در بدر خراب

    اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سے

    اچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب

    اک بار جو اتر گیا پٹری سے دوستو

    دیکھا یہی کہ پھر وہ ہوا عمر بھر خراب

    منزل تو اک طرف رہی اتنا ضرور ہے

    اک دوسرے کا ہم نے کیا ہے سفر خراب

    ہوتی نہیں وہ پوری طرح پھر کبھی بھی ٹھیک

    ہو جائے ایک بار کوئی چیز گر خراب

    اے دل مجھے پتا ہے کہ لایا ہے تو کہاں

    چل خود بھی اب خراب ہو مجھ کو بھی کر خراب

    اس کاروبار عشق میں ایسی ہے کیا کشش

    پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب

    اک دن بھی آشیاں میں نہ گزرا سکون سے

    کرتے رہے ہیں مجھ کو مرے بال و پر خراب

    رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات

    کرتی ہے آرزوئے کمال ہنر خراب

    اس تیرہ خاکداں کے لیے کیا بلا سبب

    صدیوں سے ہو رہے ہیں یہ شمس و قمر خراب

    لگتا ہے ان کو زنگ کسی اور رنگ کا

    کس نے کہا کہ ہوتے نہیں سیم و زر خراب

    اک قدرداں ملا تو یہ سوچا کہ آج تک

    ہوتے رہے کہاں مرے لعل و گہر خراب

    خاموش اور اداس ہو باصرؔ جو صبح سے

    آئی ہے آج پھر کوئی گھر سے خبر خراب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY