کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

محسن نقوی

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

    بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا

    بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا

    بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا

    یہ بے آواز بنجر بن کے باسی یہ اداسی

    یہ دہشت کا سفر جنگل یہ بیلہ میں اکیلا

    میں دیکھوں کب تلک منظر سہانے سب پرانے

    وہی دنیا وہی دل کا جھمیلا میں اکیلا

    وہ جس کے خوف سے صحرا سدھارے لوگ سارے

    گزرنے کو ہے طوفاں کا وہ ریلا میں اکیلا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا نعمان شوق

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY