خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے

سبیلہ انعام صدیقی

خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے

    فریاد کروں یہ مری عادت تو نہیں ہے

    جو موج غم و درد اٹھی ہے مرے دل میں

    ہنگامہ تو بے شک ہے قیامت تو نہیں ہے

    شاید مجھے مل جائے مرے درد کا درماں

    امید سہی چین کی حالت تو نہیں ہے

    فرصت میں مجھے یاد بھی کر لیجیے اک دن

    یہ عرض محبت کی علامت تو نہیں ہے

    مل جائے سر راہ کسی موڑ پہ کوئی

    اک حادثہ بے شک ہے رفاقت تو نہیں ہے

    انصاف جسے حق کا طرف دار کہیں سب

    اس ملک میں قائم وہ عدالت تو نہیں ہے

    کیوں گھر سے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں یہاں لوگ

    اس شہر میں قانون حفاظت تو نہیں ہے

    اللہ رضا پر تری راضی ہی رہوں گی

    ہو شکوہ زباں پر یہ جسارت تو نہیں ہے

    آباد رہا دل میں وہی ایک سبیلہؔ

    اب غیر کو آنے کی اجازت تو نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY