خموش ہونٹوں سے سارے کلام کرنے لگے

تاثیر جعفری

خموش ہونٹوں سے سارے کلام کرنے لگے

تاثیر جعفری

MORE BYتاثیر جعفری

    خموش ہونٹوں سے سارے کلام کرنے لگے

    وہ سب کے سب ترے بارے کلام کرنے لگے

    ڈھلی جو شام تو اشکوں سے گفتگو تھی مری

    پھر اس کے بعد ستارے کلام کرنے لگے

    تمہارا ذکر چھڑا جب تو معجزہ یہ ہوا

    کہ جتنے گونگے تھے سارے کلام کرنے لگے

    تری اداسیوں بے چینیوں سے ظاہر ہے

    کہ اب یہ زخم ہمارے کلام کرنے لگے

    کسی کے سامنے گلزار آگ ہونے لگی

    کسی کے جسم سے آرے کلام کرنے لگے

    ہماری غزلوں کا تاثیرؔ آسرا لے کر

    تمہارے ہجر کے مارے کلام کرنے لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY