خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ

شوق بہرائچی

خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ

شوق بہرائچی

MORE BYشوق بہرائچی

    خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ

    کانپتے ہاتھوں سے ظالم نے جو موڑا کاغذ

    نہ تو نیلا نہ تو پیلا نہ تو اجلا کاغذ

    چاہئے ان کے تلون کو ترنگا کاغذ

    صفحۂ دل پہ نظر آتے ہیں اب داغ ہی داغ

    گود ڈالا کسی کمبخت نے سارا کاغذ

    باغباں کے ستم و جور جو لکھتے بیٹھے

    لگ گیا رم کا رم اور دستہ کا دستہ کاغذ

    جب بھی وہ بیٹھتے ہیں لکھنے کو اقرار وفا

    گاؤں بھر میں کہیں ملتا نہیں پرزہ کاغذ

    ان کے ہاتھوں میں قلم دان ہدایت اب ہے

    جو نہیں جانتے سیدھا ہے کہ الٹا کاغذ

    کیا کہے ان کے تخیل کی دیانت کوئی

    جیسے دیکھا ہے کبھی بانس کا موٹا کاغذ

    ظلم ڈھا کر بھی ابھی تک ہے کوئی بے تقصیر

    روز لکھنے پہ بھی ہے سادے کا سادہ کاغذ

    داستاں گیسوئے پیچاں کی جو لکھنے بیٹھے

    فاؤنٹن پن میں ہمارے بہت الجھا کاغذ

    دم تحریر نہ ظاہر ہو کہیں دل کا غبار

    دیکھیے ہونے نہ پائے کہیں میلا کاغذ

    بھیجنا ہے مجھے اک ماہ جبیں کا خط شوق

    شوقؔ صاحب کہیں ملتا نہیں بڑھیا کاغذ

    مأخذ :
    • کتاب : intekhab-e-kalam shauq bahraichi (Pg. 62)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY