خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں

فرحت عباس

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں

فرحت عباس

MORE BYفرحت عباس

    خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں

    سخاۓ ہجر نے اب بھی نمائشیں دی ہیں

    یہ اب جو خواب زمانوں نے دستکیں دی ہیں

    پس مراد حقائق کی منزلیں دی ہیں

    مرے لباس کے پیوند مفلسی پہ نہ جا

    مرے جنوں نے محبت کو خلعتیں دی ہیں

    مرے مزاج کا موسم عجیب موسم ہے

    کہ جس کے غم نے بھی ہستی کو رونقیں دی ہیں

    ہم اہل عشق نے تاوان راحتیں دے کر

    حدود عرصۂ وحشت کو وسعتیں دی ہیں

    چلو یہ بات غلط ہے تو پھر بتاؤ مجھے

    ہر ایک ہاتھ میں کس کس نے مشعلیں دی ہیں

    شعور جائے تو فرصت سے نیند بھی آئے

    فشار ذات نے فرحتؔ کو رنجشیں دی ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY