خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا

رحمان خاور

خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا

رحمان خاور

MORE BYرحمان خاور

    خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا

    وہ اپنے گھر سے کبھی میرے گھر بھی آئے گا

    بچھڑتے وقت کا منظر بھی دھیان میں رکھنا

    سفر میں کام یہ رخت سفر بھی آئے گا

    نکل تو آئے ہیں زندان تیرگی سے مگر

    یہ سوچتے ہیں ہمیں کچھ نظر بھی آئے گا

    سبھی نہ گھر کے دریچوں سے بچ کے گزریں گے

    ہوا کا کوئی تو جھونکا ادھر بھی آئے گا

    ملال سایۂ دیوار و در ابھی سے کیا

    یہ مرحلہ تو سر رہ گزر بھی آئے گا

    مری نوا تو کبھی رائیگاں نہیں جاتی

    اگر وہ گھر میں ہوا بام پر بھی آئے گا

    کسے گمان تھا خاورؔ وہاں کی مٹی میں

    یہاں کی آب و ہوا کا اثر بھی آئے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY