کھینچ لائی تھی مجھے خوشبو ہی تیرے پیرہن کی

رفیق راز

کھینچ لائی تھی مجھے خوشبو ہی تیرے پیرہن کی

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    کھینچ لائی تھی مجھے خوشبو ہی تیرے پیرہن کی

    پر تری آنکھوں میں ہے وحشت بھی آہوئے ختن کی

    عشق کی آتش کہاں بارود کے شعلے ہیں رقصاں

    اب کہاں وہ زلف اور وہ داستاں دار و رسن کی

    کیا ہوئے وہ دن کہ جب اکثر میسر تھی مجھے بھی

    دن کو ظلمت زلف کی اور دھوپ شب کو سیم تن کی

    آتش فرقت سے میں شب کو اجالا مانگتا ہوں

    عشق میں ہوتی نہیں ہے حد کوئی دیوانہ پن کی

    روشنی جس کی مری آنکھوں کو خیرہ کر چکی ہے

    راکھ کر کے چھوڑ دے گی اب حرارت اس بدن کی

    دیکھ کے رستے کے منظر سب کے سب تھے غرق حیرت

    یاد ایسے میں بھلا آتی کسے اپنے وطن کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے