خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں

شوق بہرائچی

خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں

شوق بہرائچی

MORE BYشوق بہرائچی

    خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں

    بڑے بڑے بانیان جور و ستم کے بدھیے بٹھا دیے ہیں

    خیالی غنچے کھلا دیئے ہیں خیالی گلشن سجا دیے ہیں

    نئے مداری نے دو ہی دن میں تماشے کیا کیا دکھا دیے ہیں

    کوئی تو ہے بے خود تعیش کوئی ہے محو حصول ثروت

    کھلونے ہاتھوں میں رہبروں کے یہ کس نے لا کر تھما دیے ہیں

    وطن میں شام و سحر جو ہوتی ہے پرورش شیخ و برہمن کی

    یتیم خانہ میں ان یتیموں کے نام کس نے لکھا دیے ہیں

    یہ شیخ ہیں اور یہ برہمن ہیں یہ واعظ و صدر انجمن ہیں

    زمانہ پہچانتا ہے سب کو ہر اک پہ لیبل لگا دیے ہیں

    جفا شعاروں میں شاید آ جائے اس طرح کچھ اثر وفا کا

    منگا کے مرغیوں کے انڈے بطوں کے نیچے بٹھا دیے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : intekhab-e-kalam shauq bahraichi (Pg. 129)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY