خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں

شاد عظیم آبادی

خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں

    دم اب اکتا گیا اللہ اکبر کب سے جیتے ہیں

    سمجھ لے قاصدوں نے کچھ تو ایسی ہی خبر دی ہے

    کہیں کیا تجھ سے اے ناصح کہ جس مطلب سے جیتے ہیں

    کسی حالت نہ ہم سے بڑھ سکے گی رات فرقت کی

    کہ ہم بازی سیہ بختی میں بھی اس شب سے جیتے ہیں

    دم اپنا گھٹ کے کب کا ہجر جاناں میں نکل جاتا

    مددگاریٔ شور نعرۂ یا رب سے جیتے ہیں

    اسے باور کر اے غم خوار کب کے مر گئے ہوتے

    پیام وصل جب سے سن لیا ہے تب سے جیتے ہیں

    زباں قابو میں ہے سننے کو تشبیہیں سنے جاؤ

    نزاکت میں کہاں اوراق گل اس لب سے جیتے ہیں

    عبث دریافت کرتے ہو سبب اس سخت جانی کا

    خدا جانے کہ ہم اے شادؔ کس مطلب سے جیتے ہیں

    مآخذ
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 225)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY