کھو گئے یوں کارخانے یا کسی دفتر میں ہم

ماہر عبدالحی

کھو گئے یوں کارخانے یا کسی دفتر میں ہم

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    کھو گئے یوں کارخانے یا کسی دفتر میں ہم

    چھٹیوں میں اجنبی لگتے ہیں اپنے گھر میں ہم

    فاصلے سے دیکھنے والا ہمیں سمجھے گا کیا

    پیاس کا صحرا ہیں دریاؤں کے پس منظر میں ہم

    رات کو سونے سے پہلے کیا کریں اس کا حساب

    کتنے سایوں کا تعاقب کر سکے دن بھر میں ہم

    بس ہمیں ہم ہیں جہاں تک کام کرتی ہے نگاہ

    ایک ذرہ ہیں مگر پھیلے ہیں بحر و بر میں ہم

    مختلف خاکوں میں چھینٹوں کی طرح تقسیم ہیں

    کیا ابھر کر سامنے آئیں کسی منظر میں ہم

    دوسری جانب اندھیرا ہے تو کس امید پر

    جاگتی آنکھوں کو رکھ آئے شگاف در میں ہم

    ہے یہ مجبوری کہ آنچ آتی ہے چاروں سمت سے

    ورنہ سوچا تھا جئیں گے موم کے پیکر میں ہم

    ہاتھ جس شے کی طرف لپکے وہ غائب ہو گئی

    پھنس گئے ماہرؔ یہ کس آسیب کے چکر میں ہم

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 119)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY