خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

آزاد گلاٹی

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

    زندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا

    اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیں

    اس سے پہلے تو مرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا

    ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کر

    میں یہی سوچا کیا میں تو کبھی تنہا نہ تھا

    اس کے اپنے ہاتھ رخساروں کو سہلانے لگے

    گو بظاہر میری بابت اس نے کچھ سوچا نہ تھا

    ہر طرف کھلتی رہیں کلیاں نسیم صبح سے

    اپنی قسمت میں صبا کا ایک بھی جھونکا نہ تھا

    زندگی اے زندگی!! آ دو گھڑی مل کر رہیں

    تجھ سے میرا عمر بھر کا تو کوئی جھگڑا نہ تھا

    سوچتے ہیں اب اسے آزادؔ ہم کیا نام دیں

    عمر کا وہ دور دل میں جب کوئی سودا نہ تھا

    مآخذ
    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 137)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY