خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں

شاہین عباس

خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں

    ورنہ کیا ہم اپنی گہرائی کو پا سکتے نہیں

    خوشبوئیں کپڑوں میں نادیدہ چمن زاروں کی ہیں

    ہم کہاں سے ہو کے آئے ہیں بتا سکتے نہیں

    ہم نے ان گلیوں میں چلنے کی رعایت لی ہے بس

    دیکھ سکتے ہیں ہمیں یہ گھر بسا سکتے نہیں

    یہ بھرم منظر کا بھی ہے اور پس منظر کا بھی

    آخری نقش تماشا ہے مٹا سکتے نہیں

    نقشۂ نابود اٹھائے پھر رہے ہیں شہر شہر

    پھر رہے ہیں اور بس آگے بتا سکتے نہیں

    ہم کوئی پردہ مکمل کر رہے ہیں دیر سے

    آنکھ چاہیں بھی تو تجھ پر سے ہٹا سکتے نہیں

    زندگی ہم تیری جانب آ رہے ہیں ایک ساتھ

    ایک ساتھ آنے کا مطلب ہے کہ آ سکتے نہیں

    ساری گرہیں کھول کر بیکار ہو بیٹھے تو ہیں

    اب لگاتے ہیں دوبارہ اور لگا سکتے نہیں

    انتظاری ہیں سو بام و در پہ بھاری بھی تو ہیں

    رخنے بھر سکتے نہیں پردے گرا سکتے نہیں

    الوداعی اک چراغاں اور پھر رخصت ہمیں

    اب مزید اس روشنی پر داد پا سکتے نہیں

    رہتے رہتے رہ نہ جائیں لوگ اس تصویر کے

    ہم قدم اس کے ہیں جس کے ساتھ جا سکتے نہیں

    ہاتھ سے نکلے ہوئے نا وصف ناوقتوں کے ہم

    ہاتھ آنا چاہتے ہیں اور آ سکتے نہیں

    تیری جانب سے اٹھا سکتے ہیں گر پاؤں تو کیا

    تیری جانب سے ہم اپنی خاک اڑا سکتے نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY