خود پر کوئی طوفان گزر جانے کے ڈر سے

حسن عزیز

خود پر کوئی طوفان گزر جانے کے ڈر سے

حسن عزیز

MORE BY حسن عزیز

    خود پر کوئی طوفان گزر جانے کے ڈر سے

    میں بند ہوں کمرے میں بکھر جانے کے ڈر سے

    یہ لوگ مجھے خون کا تاجر نہ سمجھ لیں

    میں تیغ لیے پھرتا ہوں سر جانے کے ڈر سے

    ہر سائے پہ آہٹ پہ نظر رکھتا ہوں شب بھر

    بستر پہ نہیں جاتا ہوں ڈر جانے کے ڈر سے

    میں ٹوٹنے دیتا نہیں رنگوں کا تسلسل

    زخموں کو ہرا کرتا ہوں بھر جانے کے ڈر سے

    وہ ماں کی محبت کی بلندی تھی کہ اس نے

    زندہ ہی نہ چھوڑا مجھے مر جانے کے ڈر سے

    کچھ جیت میں بھی فائدہ ہوتا نہیں پھر بھی

    وہ جنگ نہیں ہارتا ہرجانے کے ڈر سے

    افسردہ حسنؔ ہیں مرے لشکر کے سپاہی

    اس تک مرے زخموں کی خبر جانے کے ڈر سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY