خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

مظفر رزمی

خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

مظفر رزمی

MORE BYمظفر رزمی

    خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

    ورنہ خوددار مسافر ہوں گزر جاؤں گا

    آندھیوں کا مجھے کیا خوف میں پتھر ٹھہرا

    ریت کا ڈھیر نہیں ہوں جو بکھر جاؤں گا

    زندگی اپنی کتابوں میں چھپا لے ورنہ

    تیرے اوراق کے مانند بکھر جاؤں گا

    میں ہوں اب تیرے خیالات کا اک عکس جمیل

    آئینہ خانے سے نکلا تو کدھر جاؤں گا

    مجھ کو حالات میں الجھا ہوا رہنے دے یوں ہی

    میں تری زلف نہیں ہوں جو سنور جاؤں گا

    تیز رفتار سہی لاکھ مرا عزم سفر

    وقت آواز جو دے گا تو ٹھہر جاؤں گا

    دم نہ لینے کی قسم کھائی ہے میں نے رزمیؔ

    مجھ کو منزل بھی پکارے تو گزر جاؤں گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY