خود سے میں بے یقیں ہوا ہی نہیں

آس فاطمی

خود سے میں بے یقیں ہوا ہی نہیں

آس فاطمی

MORE BYآس فاطمی

    خود سے میں بے یقیں ہوا ہی نہیں

    آسماں تھا زمیں ہوا ہی نہیں

    عشق کہتے ہیں سب جسے ہم سے

    وہ گناہ حسیں ہوا ہی نہیں

    وصل بھی اس کا اس کے جیسا تھا

    جو گماں سے یقیں ہوا ہی نہیں

    خانۂ دل سرا کی صورت ہے

    کوئی اس میں مکیں ہوا ہی نہیں

    لاکھ چاہا مگر سخن میرا

    قابل آفریں ہوا ہی نہیں

    میں بھی خود کو سنوارتا محسنؔ

    آئنہ نکتہ چیں ہوا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY