خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

ساحر بھوپالی

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

ساحر بھوپالی

MORE BYساحر بھوپالی

    خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

    تڑپ کے پھر کوئی دامن کو تیرے تھام نہ لے

    بس ایک سجدۂ شکرانہ پائے ساقی پر

    یہ مے کدہ ہے یہاں پر خدا کا نام نہ لے

    وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر

    اب اتنا سخت محبت سے انتقام نہ لے

    زمانے بھر میں ہیں چرچے مری تباہی کے

    میں ڈر رہا ہوں کہیں کوئی تیرا نام نہ لے

    مٹا دو شوق سے مجھ کو مگر کہیں تم سے

    زمانہ میری تباہی کا انتقام نہ لے

    میں جانوں جب کہ بجھا دے تو تشنگی دل کی

    وگرنہ آج سے دریا دلی کا نام نہ لے

    نہیں وہ حسن جو عاشق کو شاد کام کرے

    نہیں وہ عشق جو ناکامیوں سے کام نہ لے

    رکھوں امید کرم اس سے اب میں کیا ساحرؔ

    کہ جب نظر سے بھی ظالم مرا سلام نہ لے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY