خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں

رینو نیر

خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں

رینو نیر

MORE BYرینو نیر

    خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں

    پھر اپنی دعا کا اثر دیکھتے ہیں

    ہمیں ہیں مسافر ہمیں آبلہ پا

    تماشہ اے گرد سفر دیکھتے ہیں

    فقیری فقیری فقیری فقیری

    نہ جنت نہ دنیا نہ گھر دیکھتے ہیں

    ادھر آ اے حسن تمنا ادھر آ

    نظر بھر تجھے اک نظر دیکھتے ہیں

    کسی عکس میں اب وہ باندھیں گے مجھ کو

    چرا کر نظر شیشہ گر دیکھتے ہیں

    نہ جانے کہاں مٹ گئے نقش جاں

    چلو آج پھر سوچ کر دیکھتے ہیں

    ہمارے ہی گھر سے نکلتا ہے اکثر

    جسے لوگ شام و سحر دیکھتے ہیں

    کڑا امتحاں چاک پر تھا نظر کا

    ابھی تک وہ رقص ہنر دیکھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY