خوشبو ہے اور دھیما سا دکھ پھیلا ہے

فاطمہ حسن

خوشبو ہے اور دھیما سا دکھ پھیلا ہے

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    خوشبو ہے اور دھیما سا دکھ پھیلا ہے

    کون گیا ہے اب تک لان اکیلا ہے

    کیوں آہٹ پر چونکوں میں کس کو دیکھوں

    بے دستک ہی آیا جب وہ آیا ہے

    کھلی کتابیں سامنے رکھے بیٹھی ہوں

    دھندلے دھندلے لفظوں میں اک چہرہ ہے

    رات دریچے تک آ کر رک جاتی ہے

    بند آنکھوں میں اس کا چہرہ رہتا ہے

    آوازوں سے خالی کرنیں پھیلی ہیں

    خاموشی میں چاند بھی تنہا جلتا ہے

    جانے کون سے رستے پہ کھو جائے وہ

    شہر میں بھی آسیبوں کا ڈر رہتا ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Khushbu hai aur dheema sa dukha phaila hai عذرا نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY