خوشی نہ مل سکی آنکھیں مری پر آب رہیں

ابرار عابد

خوشی نہ مل سکی آنکھیں مری پر آب رہیں

ابرار عابد

MORE BYابرار عابد

    خوشی نہ مل سکی آنکھیں مری پر آب رہیں

    خیال و خواب کی باتیں خیال و خواب رہیں

    سحر ہوئی نہ مرے شہر آرزو میں کبھی

    کہ مہر حسن کی کرنیں پس نقاب رہیں

    انہی کے دم سے ہے قائم وقار سجدۂ شکر

    وہ لوگ جن کی سدا قسمتیں خراب رہیں

    کسی نے بھی در احساس اپنا وا نہ کیا

    دکھے دلوں کی صدائیں نہ کامیاب رہیں

    سکوں سے رہتے ہیں کس طرح لوگ دنیا میں

    مرے لیے تو یہ سانسیں بھی اک عذاب رہیں

    رہ وفا میں نگاہوں سے ہو گئیں اوجھل

    جو صورتیں مری آنکھوں کا انتخاب رہیں

    بسے ہوئے ہیں مرے خواب جن میں اے عابدؔ

    وہ بستیاں تو ہمیشہ ہی زیر آب رہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY