خواب ایسا بھی نظر آیا ہے اکثر مجھ کو

شارق جمال ناگپوری

خواب ایسا بھی نظر آیا ہے اکثر مجھ کو

شارق جمال ناگپوری

MORE BYشارق جمال ناگپوری

    خواب ایسا بھی نظر آیا ہے اکثر مجھ کو

    لگا جبریل کا شہ پر مرا بستر مجھ کو

    اپنے مقصد کے لیے لفظ بنا کر مجھ کو

    کوئی دوڑاتا ہے کاغذ کی سڑک پر مجھ کو

    ڈس نہ لے دیکھو کہیں دھوپ کا منظر مجھ کو

    تم نے بھیجا تو ہے بل کھاتی سڑک پر مجھ کو

    سب کو میں ان کی کتابوں میں نظر آتا ہوں

    لوگ پڑھتے ہیں ترے شہر میں گھر گھر مجھ کو

    کیوں نہ گھبراؤں کہ تنہا ہوں گھنا ہے جنگل

    دور سے دیکھے ہے سناٹے کا لشکر مجھ کو

    کیوں نہ صحرا کو نچوڑوں کہ مری پیاس بجھے

    دے گا اک قطرہ نہ کنجوس سمندر مجھ کو

    نیند جب تک تھی مری آنکھوں میں محفوظ تھا میں

    قتل لمحوں نے کیا خواب سے باہر مجھ کو

    میری آنکھوں کے دہکتے ہوئے شعلہ پہ نہ جا

    سرد کتنا ہوں سمجھ ہاتھ سے چھو کر مجھ کو

    وہ پگھلتا ہے کہ شارقؔ مرا تن جلتا ہے

    دیکھے رکھ کر کوئی سورج کے برابر مجھ کو

    مأخذ :
    • کتاب : عکس بر عکس (Pg. 20)
    • Author : شارق جمال
    • مطبع : شاہد پریس ناگپور (1986)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY