خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہے

عروج زیدی بدایونی

خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہے

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہے

    مجھ کو معلوم ہے جو کچھ مری تقدیر میں ہے

    میری روداد محبت کو نہ سننے والے

    تجھ میں وہ بات کہاں جو تری تصویر میں ہے

    پیکر خاک بھی ہوں باعث کونین بھی ہوں

    کتنا ایجاز نمایاں مری تفسیر میں ہے

    پھول بن کر بھی یہ احساس شگوفے کو نہیں

    میری تخریب کا پہلو مری تعمیر میں ہے

    حسن کے ساتھ تجھے حسن وفا بھی ملتا

    اسی حلقے کی ضرورت تری زنجیر میں ہے

    وسعت دامن رحمت کی قسم کھاتا ہوں

    عذر تقصیر بھی داخل حد تقصیر میں ہے

    ایک تہہ دار یہ مصرع ہے جواب خط میں

    کس قدر شوخ بیانی تری تحریر میں ہے

    کیا تماشا ہے یہ اے پائے جنون رسوا

    کبھی زنجیر سے باہر کبھی زنجیر میں ہے

    جانے کب اس پہ اجالے کو ترس آئے گا

    وہ سیہ پوش فضا جو مری تقدیر میں ہے

    گفتگو ہوتی ہے اکثر شب تنہائی میں

    ایک خاموش تکلم تری تصویر میں ہے

    میری نظروں میں یہی حسن تغزل ہے عروجؔ

    شعر گوئی کا مزا پیروی‌‌ میرؔ میں ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Lahje ke Chiraag (Pg. 133)
    • Author : Urooj Zaidi
    • مطبع : Irfan Zaidi, Rampur (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY