خواب کیا ہیں شراب کی جھیلیں

اسرار اکبر آبادی

خواب کیا ہیں شراب کی جھیلیں

اسرار اکبر آبادی

MORE BYاسرار اکبر آبادی

    خواب کیا ہیں شراب کی جھیلیں

    نیند آئے تو ہم ذرا پی لیں

    ایک سورج ہزارہا کرنیں

    کھل گئی ہیں حیات کی ریلیں

    تیز مغرب کی ہو گئی ہے ہوا

    تھرتھرانے لگی ہیں قندیلیں

    شہر کی گرد ہی لپٹ جائے

    کوئی اپنا ملے تو ہم جی لیں

    فرط غم سے چٹخ گئے الفاظ

    کیسے نکلیں گی روح سے کیلیں

    یہ بھی گھر ہو گیا ہے نذر فساد

    اس میں رہتی تھیں کچھ ابابیلیں

    بات اپنی بنے گی کیا اسرارؔ

    ذہن میں رہ گئی ہیں تاویلیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY