کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے

محسن احسان

کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے

محسن احسان

MORE BYمحسن احسان

    کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے

    ہمارے نام کو بدنام کر گئے اپنے

    اب ان کے نقش قدم راستوں میں کیا ڈھونڈیں

    پرائی منزلوں کو ہم سفر گئے اپنے

    بہار نے کیا منصوبہ حنا بندی

    مناؤ جشن کہ سب زخم بھر گئے اپنے

    پھر اس کے بعد فقط میں تھا میرا سایا تھا

    جو دشت دشت تھے ہمراہ گھر گئے اپنے

    جب ایک میر بھی ہم سایے میں مرے رویا

    تو یہ گماں ہوا دیوار و در گئے اپنے

    ہمیں عدو سے ہو محسنؔ گلہ تو کیوں کر ہو

    ہمارے شہر کو ویران کر گئے اپنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY