کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں

اختر شیرانی

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں

    مے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیں

    دل میں ارمان وصال آنکھ میں طوفان جمال

    ہوش باقی نہیں جانے کا مگر جاتے ہیں

    بھولتی ہی نہیں دل کو تری مستانہ نگاہ

    ساتھ جاتا ہے یہ مے خانہ جدھر جاتے ہیں

    پاسبانان حیا کیا ہوئے اے دولت حسن

    ہم چرا کر تری دزدیدہ نظر جاتے ہیں

    پرسش دل تو کجا یہ بھی نہ پوچھا اس نے

    ہم مسافر کدھر آئے تھے کدھر جاتے ہیں

    چشم حیراں میں سمائے ہیں یہ کس کے جلوے

    طور ہر گام پہ رقصاں ہیں جدھر جاتے ہیں

    جس طرح بھولے مسافر کوئی ساماں اپنا

    ہم یہاں بھول کے دل اور نظر جاتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں اس شہر کے رہنے والے

    راہ میں چھین کے دل کہتے ہیں گھر جاتے ہیں

    اگلے وقتوں میں لٹا کرتے تھے رہرو اکثر

    ہم تو اس عہد میں بھی لٹ کے مگر جاتے ہیں

    فیض آباد سے پہنچا ہمیں یہ فیض اخترؔ

    کہ جگر پر لیے ہم داغ جگر جاتے ہیں

    RECITATIONS

    معین شاداب

    معین شاداب

    معین شاداب

    کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں معین شاداب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY