کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں

فوزیہ رباب

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں

فوزیہ رباب

MORE BYفوزیہ رباب

    کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں

    کیسے دل کو ہم سمجھائیں آپ بتائیں

    آپ کہیں میں بعد میں اپنی کہہ لوں گی

    آپ کہیں پھر بھول نہ جائیں آپ بتائیں

    آپ کی اس اکتاہٹ کو اب ہم کیا سمجھیں

    کیا اب ہم ملنے نہیں آئیں آپ بتائیں

    آپ بنا اب کون ہمارے ناز اٹھائے

    کس سے روٹھیں کس کو ستائیں آپ بتائیں

    آنکھیں رستہ تکنے پر مامور ہوئیں ہیں

    دل سے کیسے یاد مٹائیں آپ بتائیں

    بولیں آپ پہ کوئی قیامت گزرے گی کیا

    آپ کے جیسے ہم ہو جائیں آپ بتائیں

    فرق کہاں رہ جائے گا پھر ہم دونوں میں

    ہم بھی گر احسان جتائیں آپ بتائیں

    خاموشی نے سب کچھ ہی تو کہہ ڈالا ہے

    بولیں ناں اب کیا بتلائیں آپ بتائیں

    آپ نے خود کو خود ہی شہر میں عام کیا ہے

    کیوں نہیں اب یہ لوگ ستائیں آپ بتائیں

    کب تک تنہا قول نبھاتے جائیں گے ہم

    کب تک ہوں مجروح وفائیں آپ بتائیں

    مجھ بیچاری کا کہنا کس گنتی میں ہے

    آپ بھلے کچھ بھی فرمائیں آپ بتائیں

    عشق پڑا ہے پیچھے ہاتھ ہی دھو کر جیسے

    کیسے اپنی جان بچائیں آپ بتائیں

    کون ربابؔ سنے اب لوگوں کی باتوں کو

    چھوڑیں جو بھی لوگ سنائیں آپ بتائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY