کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ

نظم طبا طبائی

کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ

    کس کو یہ ڈھونڈتے ہیں برہنہ سر دونوں ساتھ

    کیسی یارب یہ ہوا صبح شب وصل چلی

    بجھ گیا دل مرا اور شمع سحر دونوں ساتھ

    بعد میرے نہ رہا عشق کی منزل کا نشاں

    مٹ گئے راہرو و راہ گزر دونوں ساتھ

    اے جنوں دیکھ اسی صحرا میں اکیلا ہوں میں

    رہتے جس دشت میں ہیں خوف و خطر دونوں ساتھ

    مجھ کو حیرت ہے شب عیش کی کوتاہی پر

    یا خدا آئے تھے کیا شام و سحر دونوں ساتھ

    اس نے پھیری نگۂ ناز یہ معلوم ہوا

    کھنچ گیا سینے سے تیر اور جگر دونوں ساتھ

    غم کو دی دل نے جگہ دل کو جگہ پہلو نے

    ایک گوشے میں کریں گے یہ بسر دونوں ساتھ

    اس کو روکوں میں الٰہی کہ سنبھالوں اس کو

    کہ تڑپنے لگے دل اور جگر دونوں ساتھ

    ناز بڑھتا گیا بڑھتے گئے جوں جوں گیسو

    بلکہ لینے لگے اب زلف و کمر دونوں ساتھ

    تجھ سے مطلب ہے نہیں دنیا و عقبیٰ سے غرض

    تو نہیں جب تو اجڑ جائیں یہ گھر دونوں ساتھ

    بات سننا نہ کسی چاہنے والے کی کبھی

    کان میں پھونک رہے ہیں یہ گہر دونوں ساتھ

    آندھیاں آہ کی بھی اشک کا سیلاب بھی ہے

    دیتے ہیں دل کی خرابی کی خبر دونوں ساتھ

    کیا کہوں زہرہ و خورشید کا عالم اے نظمؔ

    نکلے خلوت سے جوں ہی وقت سحر دونوں ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY