کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح

تاباں عبد الحی

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح

    ساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرح

    یار کے پاؤں پہ سر رکھ جی کو اپنے دیجئے

    اس سے بہتر اور نہیں ہوتی ہے مر جانے کی طرح

    کب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شراب

    جاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح

    مست آتا ہے پئے مے آج وہ قاتل مرا

    کچھ نظر آتی ہے مجھ کو اپنے جی جانے کی طرح

    شمع رو کے گرد پھرتی ہیں سدا قربان ہو

    چشم میری پر لگا مژگاں کے پروانے کی طرح

    باغ میں گل نے کیا اپنے تئیں لوہولہان

    دیکھ اس غنچہ دہن کے پان کے کھانے کی طرح

    فصل گل آئی ہے تاباںؔ گھر میں کیا بیٹھا ہے یوں

    کر گریباں چاک جا صحرا میں دیوانے کی طرح

    مأخذ :
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY