کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

فگار اناوی

کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

فگار اناوی

MORE BYفگار اناوی

    کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

    جو الفت ایک دیوانے کو دیوانے سے ہوتی ہے

    سبو سے جام سے مینا سے پیمانے سے ہوتی ہے

    محبت مے سے ہو کر سارے مے خانے سے ہوتی ہے

    کوئی قصہ ہو کوئی واقعہ کوئی حکایت ہو

    تسلی دل کو درد دل کے افسانے سے ہوتی ہے

    مری توبہ سے کہہ دو وہ بھی آ کر شوق سے سن لے

    عجب آواز پیدا دل کے پیمانے سے ہوتی ہے

    نظر سے چھپنے والے دل سے آخر کیوں نہیں چھپتے

    یہ کیسی بے حجابی آئنہ خانے سے ہوتی ہے

    بہار چند روزہ سے کوئی مانگے تو کیا مانگے

    خزاں کو بھی ندامت ہاتھ پھیلانے سے ہوتی ہے

    گھٹائیں غم کی چھٹ جاتی ہیں ان کے مسکرانے سے

    کہ جیسے صبح پیدا رات ڈھل جانے سے ہوتی ہے

    فگارؔ احساس دل میں ہر طرف کانٹے ہی کانٹے ہیں

    یہی تسکین گلشن میں بہار آنے سے ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Harf-o-nava (Pg. 48)
    • Author : umesh bahadur sirivasto figaar unnavi
    • مطبع : Figaar Unnavi (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے