کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظر

طاہر عدیم

کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظر

طاہر عدیم

MORE BYطاہر عدیم

    کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظر

    جگر کو کاٹتا ہے اب بھی قبرستان کا منظر

    عذاب شدت کرب جدائی کو وہ کیا جانے

    کہ دیکھا ہی نہ ہو جس نے نکلتی جان کا منظر

    اٹھی کرسی کٹا سبزہ گرے پتے اڑی چڑیاں

    تمہارے بعد کیا سے کیا ہوا دالان کا منظر

    کہاں ہوں کون ہوں یہ پوچھتا پھرتا ہوں لوگوں سے

    کہ مجھ سے کھو گیا شاید مری پہچان کا منظر

    دریدہ نقش زخمی لفظ لرزیدہ قطاروں میں

    لہو میں کس نے رنگا ہے مرے دیوان کا منظر

    ہمارے قتل پر چشم فلک میں خون اترے گا

    فضاؤں میں سجے گا سرخ سے طوفان کا منظر

    نہا کے پیار کی بارش میں اس نے دھوپ جب پہنی

    نظر میں گھل گیا قوس قزح کے تھان کا منظر

    درون ذہن جب زیبائش افکار ہی نہ ہو

    گھروں میں کیا ہے پھر آرائش سامان کا منظر

    وہ جتنے دیپ اندر ہیں وہ آنکھوں میں ہی جلتے ہیں

    اور آنکھیں ہی دکھاتی ہیں دل ویران کا منظر

    سمجھتا ہوں تری ساری کہانی میں کہ کیا ہوگی

    ہے دکھنے میں اگر ایسا ترے عنوان کا منظر

    بھری دنیا کا طاہرؔ چپہ چپہ چھان مارا ہے

    نہیں پایا کہیں بھی شہر پاکستان کا منظر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے