کسی کی زلف نہیں لب کی گرمیاں بھی نہیں

ابھے کمار بیباک

کسی کی زلف نہیں لب کی گرمیاں بھی نہیں

ابھے کمار بیباک

MORE BYابھے کمار بیباک

    کسی کی زلف نہیں لب کی گرمیاں بھی نہیں

    گلوں پہ آج تو آوارہ تتلیاں بھی نہیں

    ابھی یہ حال ہوا اس پہ کشتیاں گزریں

    وہ گاؤں جس پہ کبھی چھائیں بدلیاں بھی نہیں

    ہمارا گھر ہے کہ دیواروں کی نمائش ہے

    کوئی کواڑ تو کیا اس میں کھڑکیاں بھی نہیں

    گراں تھی شب تو مری صبح بھی ہراساں ہے

    ابھی افق پہ وہ پہلے سی سرخیاں بھی نہیں

    اسیر جسم ہے جاں اور یہ بدن اپنا

    کمال کا ہے قفس جس میں تیلیاں بھی نہیں

    گئی ہے ان پہ بھی اب اس کی برق بار نظر

    درخت جن پہ ہمارے تو آشیاں بھی نہیں

    سلوک اس نے محبت میں وہ کیا ببیاکؔ

    ہوا جو ہم سے عداوت کے درمیاں بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY