کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

نظم طبا طبائی

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

    مجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیں

    جواب نامہ کا قاصد مزار پر لایا

    کہ جانتا تھا اسے تاب انتظار نہیں

    یہ کہہ کے اٹھ گئی بالیں سے میری شمع سحر

    تمام ہو گئی شب اور تجھے قرار نہیں

    جو تو ہو پاس تو حور و قصور سب کچھ ہو

    جو تو نہیں تو نہیں بلکہ زینہار نہیں

    خزاں کے آنے سے پہلے ہی تھا مجھے معلوم

    کہ رنگ و بوئے چمن کا کچھ اعتبار نہیں

    غزل کہی ہے کہ موتی پروئے ہیں اے نظمؔ

    وہ کون شعر ہے جو در شاہوار نہیں

    مآخذ
    • کتاب : Noquush (Pg. B-301 E317)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY