کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں

    ہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوں

    وفا مری معتبر ہے کتنی جفا وہ کر سکتے ہیں کہاں تک

    جو وہ مجھے آزما رہے ہیں تو میں انہیں آزما رہا ہوں

    کسی کی محفل کا نغمۂ نے محرک نالہ و فغاں ہے

    فسانۂ عیش سن رہا ہوں فسانۂ غم سنا رہا ہوں

    زمانہ بھی مجھ سے نا موافق میں آپ بھی دشمن سلامت

    تعجب اس کا ہے بوجھ کیونکر میں زندگی کا اٹھا رہا ہوں

    نہ ہو مجھے جستجوئے منزل مگر ہے منزل مری طلب میں

    کوئی تو مجھ کو بلا رہا ہے کسی طرف کو تو جا رہا ہوں

    یہی تو ہے نفع کوششوں کا کہ کام سارے بگڑ رہے ہیں

    یہی تو ہے فائدہ ہوس کا کہ اشک حسرت بہا رہا ہوں

    خدا ہی جانے یہ سادہ لوحی دکھائے گی کیا نتیجہ وحشتؔ

    وہ جتنی الفت گھٹا رہے ہیں اسی قدر میں بڑھا رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY