کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

جون ایلیا

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

    جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

    شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں

    میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے

    وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا

    آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے

    اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا

    یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے

    یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا

    وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے

    میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے

    یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جون ایلیا

    جون ایلیا

    جون ایلیا

    جون ایلیا

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    جون ایلیا

    جون ایلیا

    فہد حسین

    کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے فہد حسین

    مآخذ:

    • Book : yani (Pg. 140)
    • Author : jaun eliya
    • مطبع : farid book depot (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY