کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں

پیارے لال رونق دہلوی

کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں

پیارے لال رونق دہلوی

MORE BYپیارے لال رونق دہلوی

    کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں

    نہ کچھ یہاں سے غرض ہے نہ کچھ وہاں سے ہمیں

    خودی کو بھول کے مست الست ہو جانا

    ملا ہے فیض یہ خم خانۂ مغاں سے ہمیں

    اذاں حرم میں ہے ناقوس ہے کنشت میں تو

    صدائیں آتی ہیں تیری کہاں کہاں سے ہمیں

    پھر آج اٹھا ہے وہ پردۂ حجاب کہیں

    شعاعیں سی نظر آتی ہیں کچھ یہاں سے ہمیں

    مثال شمع ہیں سب رات بھر کے یہ جلوے

    سحر کو اٹھنا ہے اس محفل جہاں سے ہمیں

    مٹا کے ہستئ موہوم تجھ کو پایا ہے

    پتہ ملا ہے ترا خاک بے نشاں سے ہمیں

    چمن سے اٹھ گیا رونقؔ جب آشیاں اپنا

    نہ پھر بہار سے مطلب نہ کچھ خزاں سے ہمیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY