کوئی اچھا لگے کتنا ہی بھروسہ نہ کرو

اقبال آصف

کوئی اچھا لگے کتنا ہی بھروسہ نہ کرو

اقبال آصف

MORE BYاقبال آصف

    کوئی اچھا لگے کتنا ہی بھروسہ نہ کرو

    ہر کسی کو کبھی اپنی طرح سمجھا نہ کرو

    جس میں طوفان بھنور موج نہ گہرائی ہو

    ایسے پانی میں کبھی بھول کے اترا نہ کرو

    چند سپنے ہی تو ٹوٹے ہیں ابھی سانس نہیں

    اس طرح اپنی تمناؤں کو میلا نہ کرو

    بند کمرے سے نکل آؤ کہ دنیا ہے بڑی

    ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کے سوچا نہ کرو

    ہم نے مانا کہ بہت ٹوٹ چکے ہو پھر بھی

    چل پڑے ہو تو کہیں راہ میں ٹھہرا نہ کرو

    سر اٹھاتی ہوئی موجوں سے ہواؤں نے کہا

    وقت کے ساتھ چلو وقت سے الجھا نہ کرو

    نہ جلا پاؤں نئے دیپ کوئی بات نہیں

    کم سے کم ان کو جو جلتے ہیں بجھایا نہ کرو

    چاہے کتنے ہی گھنے کیوں نہ ہوں سائے اس کے

    نیم کے پیڑ سے آموں کی تمنا نہ کرو

    ان زمینوں کو مہکنے دو ابھی پیڑوں سے

    وقت سے پہلے انہیں کاٹ کے صحرا نہ کرو

    اپنی پہچان اگر تم کو ہے کرنی قائم

    سب کی آواز میں آواز ملایا نہ کرو

    ڈنک چاہے کوئی مارے کوئی چاہے ڈس لے

    زہر سے زہر کو آصفؔ کبھی مارا نہ کرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے