کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا

رؤف خیر

کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا

    کہ کاروبار تو اخبار پر نہیں چلتا

    ہم آپ اپنا گریبان چاک کرتے ہیں

    ہمارا بس ہی تو سرکار پر نہیں چلتا

    کچھ اور چاہیئے تسکین جسم و جاں کے لیے

    ہمارا کام تو دیدار پر نہیں چلتا

    میں جانتا ہوں مجھے کس کا ساتھ دینا ہے

    میں بلی بن کے تو دیوار پر نہیں چلتا

    اصول جتنے ہیں لاگو ہمیں پہ ہوتے ہیں

    اور ایک یار طرحدار پر نہیں چلتا

    انہیں لحاظ نہیں ہے جو میری مرضی کا

    تو میں بھی مرضی اغیار پر نہیں چلتا

    نہ جانے کب تمہیں اوقات اپنی دکھلا دے

    اب اتنا ظلم بھی نادار پر نہیں چلتا

    مرے سخن کا بہانہ ہیں قافیہ و ردیف

    میں شعر کہتا ہوں کچھ تار پر نہیں چلتا

    رؤف خیرؔ پہنچتا وہیں ہے ہر پھر کر

    کہ اختیار دل زار پر نہیں چلتا

    RECITATIONS

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا رؤف خیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY