کوئی دیکھے تو ذرا کیسی سزا دیتا ہے

رفیق عثمانی

کوئی دیکھے تو ذرا کیسی سزا دیتا ہے

رفیق عثمانی

MORE BYرفیق عثمانی

    کوئی دیکھے تو ذرا کیسی سزا دیتا ہے

    میرا دشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے

    حاکم وقت بھی حالات سے عاجز آ کر

    وقت کے سامنے سر اپنا جھکا دیتا ہے

    کیا ہوا تو نے جو غربت میں چھڑایا دامن

    ایسے حالات میں ہر کوئی دغا دیتا ہے

    لطف آتا نہیں ہو کر بھی شکم سیر تمہیں

    ہم غریبوں کو تو فاقہ بھی مزہ دیتا ہے

    دور آکاش میں اڑتا ہوا سوکھا پتا

    آنے والے کسی طوفاں کا پتا دیتا ہے

    ہاتھ پھیلاؤں کسی غیر کے آگے کیوں کر

    مجھ کو ہر چیز بنا مانگے خدا دیتا ہے

    جس کی آواز کو سن کر میں تڑپ جاتا ہوں

    میرے اندر سے مجھے کون صدا دیتا ہے

    کوئی منزل پہ نہیں چھوڑتا لے جا کے رفیقؔ

    ہر کوئی دور سے بس راہ دکھا دیتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY