کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے

جواد شیخ

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے

جواد شیخ

MORE BYجواد شیخ

    کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے

    پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے

    تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی

    تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے

    کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے

    ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے

    یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے

    لفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے

    کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے

    درد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے

    ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں

    وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے

    کیسے ہو سکتا ہے جو کچھ بھی میں چاہوں

    بول نا میرے یارا کیسے ہو سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY